Date in Urdu
Date in Urdu
Share on facebook
Share on twitter
Share on google
Share on linkedin
Share on telegram
Share on whatsapp

اوٹاوہ : انسانی آنکھ کا قرنیہ وہ حصہ سے جس کے متاثر ہونے پر آپ بینائی سے محروم ہو سکتے ہیں۔لیکن ٹشو انجینیئرنگ نے یہ مشکل بھی حل کر دی،خنزیر کی تبدیل شدہ جلد سے قرنیہ بنا کر انسانی انکھ میں لگایا گیا تو اس تجربے میں شامل تمام افراد کی بینائی جزوی یا پھر کلی طور پر بحال ہوگئی۔ اس طبی کارنامے کو اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک : 99نیوز ایچ ڈی :
تفصیلات کے مطابق انسانی انکھ پر اس تجربے کے پہلے مرحلے میں دو برس بعد 14 نابینا افراد کی بینائی بحال ہوگئی، تین افراد کو کچھ بہتر دکھائی دیا، تین افراد کی بینائی نارمل ہوگئی۔ڈاکڑز کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی قرنیے کے نایاب عطیات کی کمی پوری کرسکتی ہے جن سے آنکھوں کے کئی امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے،لنکوئپنگ یونیورسٹی کے شعبہ چشم کےممتاز ماہر نیل لیگالی کے مطابق آنکھ کا پردہ یا قرنیہ بینائی کےلئے اہم کردار ادا کرتا ہے،دنیا بھر میں 1 کروڑ 27 لاکھ افراد قرنیہ کی خرابی کا شکار ہیں،70 میں سے صرف ایک خوش نصیب کو عطیہ مل جاتا ہے۔ایک اور سائنسداں مہرداد رفعت کا کہنا ہے کہ ان کی ایجاد جلد دنیا بھر کے لوگوں، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب سب کے لیے عام دستیاب ہوگی، یہ ایک نئی ٹیکنالوجی ہے جس میں آنکھ کا پردہ لگانے کے لیے ٹانکوں کی ضرورت نہیں ہوتی اور عام حالات میں ہی بائیو انجنیئرنگ سے تیار قرنیہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس میں مریض کی بافت لینے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی بلکہ مریض کے اپنے قرنیے میں ایک معمولی سوراخ کرکے نیا قرنیہ داخل کیا جاسکتا ہے،خنزیر کی جلد کی پتلی بافت یا کولاجن کو کیمیائی عمل اور فوٹو کیمیکل سے بہتر بنانے کے بعد ہائیڈروجن ملاکر اسے مستحکم کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں